Sunday, 9 February 2020

کیا سائنسدان کورونا وائرس کے علاج کے لیے کم وقت میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ویکسین ایجاد کر پائیں گے؟

جیسے جیسے کورونا وائرس سے متاثر افراد دنیا کے مختلف ملکوں میں سامنے آ رہے ہیں، اس نئے وائرس کے خلاف ویکسین بنانے کی دوڑ تیز تر ہوتی جا رہی ہے اور یوں ماہرین میڈیکل ٹیکنالوجی کی حدود کو بھی پیچھے دھکیل رہے ہیں۔
اب دنیا کے کئی ممالک میں حکومتیں، تحقیقی ادارے، دوا ساز کمپنیاں اور مالی امداد فراہم کرنے والی تنظیمیں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے دھڑا دھڑ پیسہ بھی لگا رہے ہیں اور دیگر وسائل بھی۔

یہ بھی پڑھیے

عام طور پر کسی ویکسین کو بنانے میں سالہا سال لگ جاتے ہیں، لیکن جدید ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ اب یہ کام حیرت انگیز طور پر کم وقت میں کیا جا سکتا ہے۔
اس حوالےسے ہم یہاں چار چیزوں کا ذکر کر رہے ہیں جو کم سے کم وقت میں ویکسین بنانے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

’مالیکیولر کلیمپ‘

آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئینزلینڈ میں ایک نئی ویکسین پر ’بے مثال تیزی‘ سے کام ہو رہا ہے جس میں ایک ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے جو یونیورسٹی کے اپنے ماہرین نے بنائی ہے۔ اسے مالیکیولر کلیمپ‘ یا شکنجہ‘ کہا جاتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی مدد سے سائنسدان اب وائرس کی بیرونی سطح پر پروٹینز کی جگہ ایک ایسا عمل کر سکتے ہیں جس سے ہمارے جسم کا دفاعی نظام حرکت میں آ جاتا ہے۔
تصویرتصویر کے کاپی رائٹEPA
Image captionاس ٹیکنالوجی کی مدد سے سائنسدان اب وائرس کی بیرونی سطح پر پروٹینز کی جگہ ایک ایسا عمل کر سکتے ہیں جس سے ہمارے جسم کا دفاعی نظام حرکت میں ا جاتا ہے
یونیورسٹی کے سکول آف کیمسٹری اینڈ مالیکیولر بائیو سائنس کے سربراہ پروفیسر پال ینگ بتاتے ہیں کہ ’عام طور پر کسی بھی ویکسین میں جو پروٹین پائے جاتے ہیں وہ غیر مستحکم ہونے کی وجہ سے اکثر ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں یا ان کی ساخت اتنی تبدیل ہو جاتی ہے کہ ان سے جسم میں درست اینٹی باڈیز نہیں پیدا ہو پاتیں۔‘
مالیکیولر شکنجہ کرتا یہ ہے کہ ان پرویٹینز کی ساخت کو قابو میں رکھتا جس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جب ہمیں کوئی انفیکشن ہوتی ہے تو ہمارا مدافعتی نظام مذکورہ پروٹینز کی درست شناخت کر لیتا ہے اور یوں اس کے خلاف کام شروع کر دیتا ہے۔
پروفیسر ینگ کا خیال ہے کہ ان کی بنائی ہوئی ویکسین صرف چھ ماہ کے اندر اندر تیار ہو جائے گی جس کے بعد اسے ٹیسٹ کیا جا سکے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ویکسین بنانے میں اتنا کم وقت لگنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ چینی حکام نے کورونا وائرس کا جنیٹک کوڈ فوراً دنیا کو بتا دیا تھا۔

’بے مثال تیزی‘

روایتی طور پر کسی بھی مرض سے بچاؤ کی ویکسین بنانے کے لیے وائرس یا بیکٹیریا کو کمزور شکل میں استعمال کیا جاتا ہے، یعنی اس پر ایسے کیمیائی عمل کیے جاتے ہیں جس سے اس میں بیماری پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اب جنیٹک کوڈ کو استعمال کر کے وائرس کے ڈی این اے کے کچھ حصوں کو الگ کیا جا سکتا ہے۔ یوں ویکسین بنانے کے لیے درکار وقت حیرت انگیز طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ چین نے کورونا وائرس کی شناخت ہونے کے تین دن بعد ہی، 10 جنوری کو اس کا جنیٹِک کوڈ اور دیگر معلومات انٹرنیٹ پر چڑھا دیں تھیں، جس کے بعد دنیا بھر کے ماہرین کے لیے ویکسیسن کی تیاری پر جلد ازجلد کام کرنا ممکن ہو گیا۔ کورونا وائرس کو 2019-nCoV کا نام دیا گیا ہے۔
یونیورسٹی آف کویئن لینڈ میں جو تحقیق ہو رہی ہے، اس کی مالی معاونت متعددی امراض سے پچاؤ کے لیے کام کرنی والا ایک گروپ (سی ای پی آئی) کر رہا ہے جسے دنیا بھر کی کئی حکومتیں اور فلاحی نتظیمیں فنڈز فراہم کرتی ہیں۔
اس گروپ نے دنیا کی تمام تنظیموں اور اداروں سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے پاس ویکسین بنانے والی کوئی ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے جو کورونا وائرس کو مقابلہ کرنے میں مدد کر سکتی ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ مالی امداد کے لیے درخواست بھیجیں تا کہ گروپ انہیں پیسے دے سکے۔
تصویر
Image captionپروفیسر ینگ کا خیال ہے کہ ان کی بنائی ہوئی ویکسین صرف چھ ماہ کے اندر اندر تیار ہو جائے گی جس کے بعد اسے ٹیسٹ کیا جا سکے گا
سی ای پی آئی اور دنیا کی مشہور دواساز کمپنی ’جی ایس کے‘ نے اعلان کیا ہے کہ وہ دونوں مل کر ایڈجووینٹ نامی کیمائی ایجنٹ استعمال کرنے جا رہے ہیں جو وائرس اور بیکٹیریا کے خلاف ہماری مدافعت میں اضافہ کر سکتا ہے۔ جب اس ایجنٹ کو کسی ویکسین میں ملایا جاتا ہے تو اس سے جسم کا دفاعی نظام کسی انفیکشن سے زیادہ بہتر انداز میں اور زیادہ دیر تک لڑ کر سکتا ہے۔
ایس کے ایف کا کہنا ہے کہ ’اگر کوئی مرض عالمی سطح پر پھیل جاتا ہے تو ایڈجووینٹ کی اہمیت خاص طور پر بڑھ جاتی ہے کیونکہ اس کی بدولت ہم ویکسین بنانے والے اینٹی جِن کی تھوڑی سی مقدار سے بہت سی ویکسین بناسکتے ہیں۔‘
یہ ایڈجووینٹ اس سے پہلے سوائین فُلو اور برڈ فُلو کی وبا کے دنوں میں بھی استعمال کیا گیا تھا۔

جنیٹِک سوفٹ ویئر کوڈِنگ

امریکی کپمنی موڈرنا اور جرمنی کی کمپنی ’کِیور ویک‘ ویکسین بنانے کے لیے ایک مختلف ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ’میسنجر آر این اے‘ کہلانے والے مالیکیولز پر کام کرتی ہے جو جسم کو بتاتے ہیں کہ وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے خود اپنا دفاعی نظام کیسے بنا سکتا ہے۔
اگر آپ تصور کریں کہ ڈی این اے ایک قسم کی یو ایس بی سِٹک ہے، تو آر این اے اس رِیڈر کا کام کرتا ہے جو ڈی این اے میں موجود ڈیٹا کو پڑھتا ہے۔
یوں جب جسم کے خلیوں کو کسی قسم کی پروٹین پیدا کرنا ہوتی ہے تو آر این اے ہی وہ چیز ہے جو ڈی این اے میں پوشیدہ معلومات جسم میں موجود ان ’فیکٹریوں‘ تک پہنچاتا ہے جو پروٹینز پیدا کرتی ہیں۔
جرمن کمپنی آر این اے کی مدد سے کئی امراض کی ویکسین بنا رہی ہے۔
تصویرتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image caption'اگر کوئی مرض عالمی سطح پر پھیل جاتا ہے تو ایڈجووینٹ کی اہمیت خاص طور پر بڑھ جاتی ہے کیونکہ اس کی بدولت ہم ویکسین بنانے والے اینٹی جِن کی تھوڑی سی مقدار سے بہت سی ویکسین بناسکتے ہیں'
کمپنی کے ایک ڈائریکٹر ڈاکٹر ٹِلمن رڑوز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے خلیوں کو جسم کے دفاعی نظام کو بڑھانے میں محض ایک دو گھنٹے لگتے ہیں۔
ان کے بقول کورونا وائرس کے خلاف ویکسین ’اگلے چند ہی ماہ‘ میں اس قابل ہو جائے گی کہ اسے محدود پیمانے پر ٹیسٹ کیا جا سکے گا۔
تاہم اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثر کن بات یہ ہے کہ کمپنی ایک ایسا ’آر این اے پرنٹر‘ بنا رہی ہے جسے اس جگہ لے جایا جا سکے گا جہاں اس کی ضرورت ہو۔ یہ ایم آر این اے فراہم کر کے موقع پر ویکسین کی پیداوار بڑھانے میں مدد کرے گا۔
آر این اے ٹیکنالوجی کا استعمال میساچوسٹس میں موڈرنا انک نامی کمپنی میں بھی ہو رہا ہے جس کی مالی اعانت سی ای پی آئی اور امریکہ کا قومی ادارہ برائے الرجی اور وبائی امراض کرتا ہے۔
اس حوالے سے انسانوں پر تجربہ تو اگلے تین ماہ میں ہو جائے گا تاہم موڈرنا کے سربارہ سٹیفین بانسل نے خبردار کیا کہ ’کوئی بھی موسمِ سرما تک ( عام استعمال کے قابل) ویکسین بنانے میں کامیاب نہیں ہو پائے گا۔‘

وائرس کی کمزوری پر حملہ کرنا

سان ڈیئیگو کی انوویو لیب میں سائنسدان ویکسین بنانے کے لیے ایک نئی قسم کی ڈی این اے ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں اور وہ موسمِ سرما کے آغاز میں اسے انسانوں پر آزمانا چاہتے ہیں۔
انوویو میں تحقیق اور تخلیق کے محکمے کی سینیئر نائب صدر کیٹ براڈرک کا کہنا ہے کہ ’ہماری ڈی این اے کی مدد سے بنائی گئی ویکسینز اس لیے منفرد ہیں کیونکہ یہ وائرس سے ڈی این اے کی ترتیب کا استعمال کرتے ہوئے اس کے ایسے حصوں کو نشانہ بنائیں گی جن کو انسانی جسم کی جانب سے بھی سخت ردِ عمل کا سامنا ہو۔‘
’ہم پھر مریضوں کے اپنے خلیوں کو ویکسین کے لیے فیکٹری بنا دیتے ہیں جس سے جسم کا اس وائرس سے لڑنے کا قدرتی نظام مضبوط ہو جاتا ہے۔‘
تصویرتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionخبر رساں آر این اے ٹیکنالوجی کا استعمال میساچوسٹس میں موڈرنا انک نامی کمپنی میں بھی ہو رہا ہے جسے سی ای پی آئی اور امریکہ کے قومی انسٹیٹیوٹ برائے الرجی اور وبائی امراض امداد دیتے ہیں
انوویو کا کہنا ہے کہ اگر آغاز میں کیے گئے تجربے کامیاب رہے تو اسے ’اس سال کے آخر میں‘ بڑے پیمانے پر چین میں آزمایا جا سکے گا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے ذیکا وائرس سے نمٹنے کے لیے سات ماہ میں ویکسین ایجاد کر لی تھی۔
انوویو کے سربراہ جوزف کم کے بقول 'ہم سمجھتے ہیں کہ ہم چین میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے مزید تیزی سے ویکسین تیار کر سکتے ہیں۔'

عالمی کوششیں

یہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کی جانی والی تحقیق کی کچھ مثالیں ہیں۔ دنیا بھر میں برطانیہ سے جاپان اور چین میں بھی ادارے اس کا علاج تلاش کر رہے ہیں۔
مثلاً، آسٹریلیا کی قومی سائنس ایجنسی سی ایس آئی آر او میں اس بات پر تحقیق ہو رہی ہے کہ وائرس کی تخلیق اور نقل بننے میں کتنا وقت لگتا ہے، اس کا ہمارے پھیپھڑوں پر کیا اثر پڑتا ہے اور یہ وبا پھیلتی کیسے ہے۔
فرانس کے پاسچر انسٹیٹیوٹ نے اس حوالے سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے جو اس کورونا وائرس کو سمجھ سکے، ایک ویکسین تیار کر سکے اور اس وبا کی تشخیص اور اسے کنٹرول کرنے کے مختلف طریقے وضع کر سکے۔
تاہم اگر یہ ویکسین انتہائی کم وقت میں بھی بنا دی گئی تو بھی شاید حالیہ وبا اس وقت تک ختم ہو چکی ہو لیکن امریکہ میں نوواویکس لیب میں ہونے والی تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر گریگوری گلین کا کہنا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حالیہ کوششیں رائیگاں جائیں گی۔
ڈاکٹر گلین نے صحافیوں کو بتایا کہ 'کورونا وائرس ایک وبا کے دوران تبدیل بھی ہو سکتا ہے اس لیے اس کی ویکسین بنانا انتہائی ضروری ہے۔'

Saturday, 8 February 2020

Lose In Space Season 3 datile reales date

لوسٹ ان اسپیس ایک امریکی ٹی وی سیریز ہے جو خلا میں ایک کنبہ کی مہم جوئی کے بعد ہے۔ یہ سلسلہ گھریلو سائنس فائی سے بچنے والے افراد کو خاندانی ڈرامے کی تسلی بخش تار کے ساتھ توازن دیتا ہے۔
کاسٹ کے ساتھ نیٹ فلکس پر خلائی سیزن 3 میں گم
لوسٹ ان اسپیس سیزن 1 کو پہلے سیزن کے بعد اپریل 2018 میں نیٹ فلکس پر جاری کیا گیا تھا۔ شائقین کے لئے ایک اور سیزن تھا۔ دوسرے سیزن کو کرسمس کے آخری سال میں نیٹ فلکس پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ اسپیس سیزن 3 میں کھوئے ہوئے ایک غیر متوقع موسم ہے کیونکہ پہلے موسم کو جاری کرنے کے بعد سیزن 2 کے لئے اس میں کافی وقت لگتا ہے تاکہ نیٹ فلکس نے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی۔ لیکن تخلیق کار اس پر کام کر رہے ہیں۔ سیزن 3 کو 2020 میں چھوڑ دیا جائے گا ، شاید ان کی ٹیم مینجمنٹ نے کہا۔ ان کے قیاس آرائیوں کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جنوری 2021 کو بھی اس میں دھکا پڑ سکتا ہے۔
رابنسن کے کنبے کے بغیر ، لوس ان اسپیس کچھ بھی نہیں ہے لہذا والدین مورین اور جان ، جو مولی پارکر اور ٹوبی اسٹیفنز ادا کرتے ہیں ، بلاشبہ واپس آجائیں گے۔ رابنسن کے بچے جوڈی ، ول ، اور پینی بھی واپس آئیں گے۔ دونوں نسلوں کے سیزن 3 پر مختلف توجہ مرکوز ہیں۔ سیبونائل ملابو کو سیزن 2 میں باقاعدگی سے سیریز میں ترقی دی گئی تھی ، جس نے پہلے سیزن میں انجیلہ کھیلا تھا ، لہذا وہ سیزن 3 میں بھی واپس آئے گی۔
خلائی سیزن 3 میں گمشدگی کی کہانی (بگاڑنے والا الرٹ !!)   تصویر: ڈیلی بیونٹ  
خلا میں کھوئے ہوئے رابنسن خاندانوں کی مہم جوئی پر مرکوز رہے جو بیرونی خلا میں جاتے ہیں۔ جب اجنبی روبوٹ ان کے جہاز سے سمجھوتہ کرتا ہے ، تب وہ ایک کیڑے کے نیچے گر پڑے تھے ، اور رابنسن کو اسے خالی کرنا ہوگا۔ سیزن 2 میں ، رابنسن کے اہل خانہ کو ایک نامعلوم کہکشاں بھیجا گیا ، اور رابنسن کو متنبہ کیا گیا تھا کہ اس نے اجنبی ٹکنالوجی کے ذریعہ قبضہ کرلیا ہے۔
سیزن 3 کے بارے میں کہانی حیرت انگیز ہے جس کو شائقین کی جانب سے بہت اچھا احترام ملے گا۔ کہانی کو پسند کیا گیا ہے کہ محبت کی ایک حرکت کے ذریعے ایک بری چیز میں سے ایک کو بدلنا اور شاید چھٹکارا پانا اور اس سے بدلنا کہ یہ کیا ہوسکتا ہے اور معافی اور محبت کی طاقت کیا ہوسکتی ہے ، جسے شارپ لیس نے بتایا۔

Sunday, 2 February 2020

Q mobile E2 MT6261 Firmware

Q mobile E2 MT6261 Firmware
Tested Firmware
Read in Mircal Crack

Q Mobile D2 6531A Firmware+Boot key

Q Mobile D2 Firmware
100% tested Firmwar file
spd cpu 6531a
Boot Key is (9)
Firmwar Download
          Link

Tuesday, 21 January 2020

سینسر بورڈ نے فلم ’’زندگی تماشا‘‘ کی ریلیز پر تاحکم ثانی پابندی لگادی

لاہور: 
پنجاب فلم سنسر بورڈ کے بعد سندھ فلم سنسر بورڈ نے بھی فلم ’ زندگی تماشا‘ کی ریلیز پر تاحکم ثانی پابندی لگادی جس کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا۔

نوٹی فکیشن میں ہدایات دی گئی ہیں کہ سرمد کھوسٹ سنسر بورڈ کے حتمی فیصلے تک فلم ریلیز نہیں کرسکتے، نوٹی فیکیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فلم کو مختلف شکایت موصول ہونے کے بعد ریلیز کرنے سے روکا گیا ہے۔
دوسری جانب فلم کی ریلیز رکوانے کے لیے تحریک لبیک یا رسول اللہ کی جانب سے آج 22 جنوری کو ملک گیر ریلیاں نکالنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن حکومت پنجاب کی جانب سے ’’زندگی تماشا‘‘ کی نمائش فی الفور روک دینے کے احکامات سامنے آنے پر 22 جنوری کی ریلیاں منسوخ کر دی گئیں۔
تحریک لبیک یا رسول اللہ کے منتظمین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں ہماری طرف سے جو اعتراضات اور تحفظات تھے ان کے جامع تدارک اور حل کے سلسلے میں اعلیٰ ترین سطح کی بااختیار کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ جب تک یہ کمیٹی اپنا فیصلہ نہیں دے گی اُس وقت تک فلم زندگی تماشا کی نمائش نہیں ہوگی اس لیے بدھ کو داتا دربار تا پنجاب اسمبلی کی احتجاجی ریلی کو مؤخر کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سرمد کھوسٹ کی ہدایت کاری میں بننے والی  فلم ’’زندگی تماشا‘‘ کی کہانی ایک نعت خواں کے گرد گھومتی ہے جس سے ایک غلطی سرزد ہوجاتی اور اس غلطی کے باعث اس کی زندگی تماشا بن جاتی ہے۔

ٹک ٹاک کے بارے میں مکمل مالومات



دوستو ہم میں شاید ہی کوئی ایسا ہوجس نے ٹک ٹاک کے بارے میں نہ سنا ہو ٹک ٹوک اس وقت دنیا کے مشہور ترین ایپلیکیشن میں سے ایک ہے ٹک ٹوک ایک ویڈیوشیرنگ اپلیکیشن ہے جس کو 500ملین دفعہ سے بھی زیادہ ڈاونلوڈ کیا گیا ہے لیکن بہت کم لوگ ٹک ٹاک اور اس کے بنانے والے انسان کے بارے میں جانتے ہیں آج یہ آدمی چائنا کا نواں امیر ترین انسان ہےیہی کہانی میں آج آپ کو سنانے جا رہا ہوں۔ ٹک ٹاک کو باٰٰیٹ ڈانس نامی چینی کمپنی نے بنایا ہے اسے کمپنی کا مالک یعنی ٹک ٹوک کو بنانے والے کا نام زنینگ یمنگ ہے 36 سالہ زینک ایک سافٹ ویئر انجینئر ہے چائنا کی ننکار یونیورسٹی سے گریجویٹ ہونے کے بعد 2008ءمیں اس نے مائیکروسافٹ جوائن کرلی لیکن اس کا دل بہت زیادہ نہیں لگا جلد ہی اس نے مائیکروسوفٹ چھوڑ کر فین فو نام کی نئی کمپنی جوائن کی لیکن یہ کمپنی چل نہیں سکی اور زین جوبلس ہوگیا اسکے بعد زین نے۹۹ ڈاٹ کام کی اپنی کمپنی بنائی لیکن 2011 میں ایک آئیڈیا نے اس کی زندگی تبدیل کردی زین نے نوٹس کیا کہ چاینا اور باقی دنیا میں لوگ کمپیوٹر سے زیادہ موبائل فون میں انٹرسٹ لے رہے ہیں اور اسی آئیڈیا کو لے کر زین نے 2012 میں باٰٰیٹ ڈانس نام کی کمپنی بنائی یہی وہ کمپنی ہے جس نے آگے چل کر ٹکٹوک کو بنایا اور زین کی زندگی ہمیشہ کے لیے تبدیل ہوگئی دوستوں بائٹ ڈانس نام کی کمپنی موبائل ایپلیکیشن بناتی تھی لیکن زین کے سامنے ابھی کافی مشکلات تھی بائٹ ڈانس نام کی کمپنی نے جو اپنی پہلی ایپلیکیشن بنائی اس کا نام نہین ڈون زیں تھا لیکن اسی اپلیکیشن کو چینا کے حکومت نے کسی مسئلے کے وجہ سے بند کر دیا تھا تھا لیکن زین نے ہمت نہیں ہاری یہ ایک ایسی ایپلیکیشن بنانا چاہتا تھا جو چائنیز لوگوں کو دن بھر کی خبریں موبائل پر دینا چاہتی تھی زین نے کئی انویسٹر سے بات کی کہ وہ اس ایپلیکیشن کو بنانے میں ذین کو پیسے دے لیکن اس کو ہر جگہ سے انکار ہی سننے کو ملتا تھا زین نے ابھی بھی ہمت نہیں ہاری مائیکروسافٹ جیسی کمپنی میں نوکری چھوڑ کر یہ دکھے کھا رہا تھا لیکن وہ کہتے ہیں نہ کہ کوئی بھی گول کرنے کے لئے رزق لینا پڑتا ہے لیکن آخرکار اگست 2012 میں ایک انویسٹر زین کے کمپنی میں پیسے لگانے کے لئے تیار ہوگیا اور اسی طرح زین نے ٹوٹیوزنام سے ایک ایپلیکیشن بنائیں اگلے دو سالوں میں اس ایپلیکیشن کو ایک کروڑ تیس لاکھ لوگ استعمال کر رہے تھے اور زین کو بہت بڑی کامیابی مل گئی دوستو اب آتے ہیں ٹک ٹوک کی طرف ستمبر 2016میں میں زین کی کمپنی بائی ڈانس نے نے ڈویژنز ز نام کی ایپلیکیشن بنائییہ اپلیکیشن دراصل ٹک ٹوک ہی تھیجس کو چائنا میں ڈویژن کہتے ہیں ہیں اور آج بھی چینا میں اسی نام سے پکارتے ہیںدیتی ہیں دیتے یہ پلیکیشن چائنا میں بہت زیادہ مشہور ہوگئیاور کروڑوں لوگوں نے اس ایپلیکیشن کو ڈاؤنلوڈ کرلیںزین نے سوچا کہ کیوں نہ اس ایپلیکیشن کو پوری دنیا میں پھیلایا جائےاور پھر اسی ایپلیکیشن کو ٹکٹوں کی نام سے دنیا بھر میں لانچ کر دیااور پھر کچھ ہی دنوں میں ٹک ٹوک باقی دنیا میں بھی مشہور ہوگیاچائنا میں لوگ اسے ڈویژن کے نام سے ہی استعمال کر رہے تھے نومبر 2017 میں میوزیکلی ایک ایپلیکیشن کو کو زین نے نے ایک کروڑ ڈالر میں خرید لیں جو بالکل ٹک ٹوک ہی کی طرح ہے زین نے ٹک ٹوک کو میوزک کے ساتھ مست کر دیا یا یعنی دنیا میں ٹکٹوں کے جیسا کوئی بھی بڑا کمپٹیشن نہیں تھا دوستوں حیران کن پر پر ٹک ٹوک پر ذہن کی اپنی کوئی اکاؤنٹ موجود نہیں تھا کیونکہ اس کو لگتا تھا کہ ٹکٹوں کی صرف ینگ لوگوں کے لیے ہی ہے اب یہ کافی بڑا ہوگیا ہے لیکن اس نے اپنے آفس میں اپنے سارے ایمپلائز کے لئے ٹک ٹوک کا اکاونٹ بنانا لازمی قرار دیا ہے یہاں دلچسپ بات یہ بھی ہیں کہ ان ایمپلائز کو اپنی ویڈیو پر اچھے خاصے لائک لانے پڑتے تھے ورنہ ان کو آفس میں پش اپ کرنا پڑتا تھا دوستوں آج ٹک ٹوک 75 زبانوں میں دستیاب ہے اور دنیا کی مشہور ترین ایپلیکیشن میں سے ایک ہیں ہیں اور زین چائنا کا نواح امیر ترین آدمی بن چکا ہے اس کی دولت کی مالیت 13 ارب ڈالر ہیں تقریبا 2000 ارب روپئے اگر آپ کو یہ پوسٹ پسند آیا تو نیچے کمنٹس ضرور کریں شکریہ

Subscribe Us